Latest Post
Loading...

Wahi Zabah Bhi Kare Aur Wahi Le Sawab Ulta

 

 

   انشا اللہ خان انشا اور مصحفی کی دو غزلیں

میں عجب یہ رسم دیکھی، مجھے روزِ عیدِ قرباں
وہی ذبح بھی کرے اور وہی لے ثواب الٹا

 (مصحفی)

یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروزِ عیدِ قرباں
وہی ذبح بھی کرے ہے، وہی لے ثواب الٹا

(انشأ اللہ خان انشأ )

مصحفی اور انشأ اللہ خان انشا کی دو غزلیں جن میں یہ شعر مشترک ہے

یہ دم اس کے وقتِ رخصت بہ صد اضطراب الٹا
کہ بہ سوئے دل مژہ سے وہیں خونِ ناب الٹا
سرِ لوح اس کی صورت کہیں لکھ گیا تھا مانی
اسے دیکھ کہ نہ میں نے ورقِ کتاب الٹا
میں عجب یہ رسم دیکھی، مجھے روزِ عیدِ قرباں
وہی ذبح بھی کرے اور وہی لے ثواب الٹا
یہ الٹ گئی ہے قسمت کہ جو دل کسی کو دوں میں
وہ مرے ہی سر سے مارے اُسے کر خراب اُلٹا
یہ نقاب پوش ظالم کوئی زور ہے کہ جس نے
کیے خون سینکڑوں اور نہ ذرا نقاب الٹا
جو بوقتِ غسل اپنا وہ پھرا لے موج سے منہہ
تو پھراتے ہی منہہ اس کے لگے بہنے آب الٹا
میں لکھا ہے خط تو قاصد! پہ یہ ہو گا مجھ پہ احساں
انہیں پانو آئے گا تو جو لیے جواب الٹا
ترے آگے مہرِ تاباں ہے زمیں پہ سر بہ سجدہ
یہ ورق کا گنجفے کے نہیں آفتاب الٹا
نہیں جائے شکوہ اس سے ہمیں مصحفی ہمیشہ
یہ زمانے کا رہا ہے یوں ہی انقلاب الٹا

(غلام ہمدانی مصحفی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹا
کہ پڑا ہے آج خُم میں قدحِ شراب الٹا
عجب الٹے ملک کے ہیں اجی آپ بھی کہ تُم سے
کبھی بات کی جو سیدھی تو ملا جواب الٹا
چلے تھے حرم کو رہ میں، ہوئے اک صنم کے عاشق
نہ ہوا ثواب حاصل، یہ ملا عذاب الٹا
یہ شب گذشتہ دیکھا کہ وہ خفا سے کچھ ہیں گویا
کہیں حق کرے کہ ہووے یہ ہمارا خواب الٹا
یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروزِ عیدِ قرباں
وہی ذبح بھی کرے ہے، وہی لے ثواب الٹا
کھڑے چُپ ہو دیکھتے کیا، مرے دل اجڑ گئے کو
وہ گنہہ تو کہہ دو جس سے یہ وہ خراب الٹا
غزل اور قافیوں میں نہ کہے سو کیونکے انشا
کہ ہوا نے خود بخود آ، ورقِ کتاب الٹا

 (انشا اللہ خان انشا) 

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer