Akhlaq Na Bartengy Madawa Na Kareingy
اخلاق نہ برتیں گے مداوا نہ کریں گے
اب ہم بھی کسی شخص کی پروا نہ کریں گے
کچھ لوگ کئی لفظ غلط بول رہے ہیں
اصلاح مگر ہم بھی اب اصلا نہ کریں گے
کم گوئی کہ اک وصفء حماقت ہے بہ ہرطور
کم گوئی کو اپنائیں گے چہکا نہ کریں گے
اب سہل پسندی کو بنائیں گے وتیرہ
تادیر کسی باب میں سوچا نہ کریں گے
غصہ بھی ہے تہذیبء تعلق کا طلب گار
ہم چپ ہیں، بھرے بیٹھے ہیں ، غصہ نہ کریں گے
اس بار وہ تلخی ہے کہ روٹھے بھی نہیں ہم
اب کے وہ لڑائی ہے کہ جھگڑا نہ کریں گے
Comments
Post a Comment