Latest Post
Loading...

Ishq Ka Lutf Gham Se Uthta Hai,Gham Jo Uthta Hai Hum Se Uthta Hai



داغ دہلوی

عِشق کا لُطف غم سے اُٹھتا ہے
غم جو اُٹھتا ہے، ہم سے اُٹھتا ہے
فِتنہ اُن کے قدم سے اُٹھتا ہے
ہر قدم کِس سِتم سے اُٹھتا ہے
دیکھیے کیا فساد قاصِد پر
میری طرزِ رقم سے اُٹھتا ہے
اُس کی کافر نِگاہ کے اُٹھتے ہی
شور دیر و حَرَم سے اُٹھتا ہے
ظلم تیرا اُٹھائے جاتے ہیں
جب تک اے یار! ہم سے اُٹھتا ہے
کِس سے اُٹھتا ہے صدمۂ اُلفت
یہ ہمارے ہی دَم سے اُٹھتا ہے
ہم پہ کیجیے جفا، وفا آمیز
کہ سِتم بھی کرَم سے اُٹھتا ہے
گو قیامت اُٹھے، مگر یہ دل
کوئی بیت الصنم سے اُٹھتا ہے
گر نہ ٹُھکرائے وہ تو پھر اے داغ
کون خوابِ عَدَم سے اُٹھتا ہے

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer