Meri Gehraai Ko Kam Jan Lia Jata Hai Opar Opar Se Mujhe Chan Lia Jata Hai
میری گہرائی کو کم جان لیا جاتا ہے
اوپر اوپر سے مجھے چھان لیا جاتا ہے
Meri Gehraai Ko Kam Jan Lia Jata Hai
Opar Opar Se Mujhe Chan Lia Jata Hai
فتح کے ایسے مراحل سے گزرنا ہے مجھے
جہاں دشمن کا کہا مان لیا جاتا ہے
اب کہاں رہ گئے خوشبو کے پرستار یہاں
پھول سے مہنگا تو گلدان لیا جاتا ہے
باپ دادا کا حوالہ نہیں دینا پڑتا
میرے قد سے مجھے پہچان لیا جاتاہے
کھولنی پڑتی ہیں دانتوں سے پھر اس کی گرہیں
ابتدا میں جسے آسان لیا جاتا ہے
کون تشریح کرے اس کی حیا داری کی
جس کے آنچل کے لیے تھان لیا جاتا ہے

Comments
Post a Comment