Chand Lamhon Ke Liye Tu Ne Maseehaai Ki Phir Wahi Main Hon , Wahi Umar Hai Tanhaai Ki
چند لمحوں کے لیے توُ نے مسیحائی کی
پھر وہی میں ہُوں، وہی عمر ہے تنہائی کی
Chand Lamhon Ke Liye Tu Ne Maseehaai Ki
Phir Wahi Main Hon , Wahi Umar Hai Tanhaai Ki
کِس پہ گُزری نہ شب ہجر قیامت کی طرح
فرق اتنا ہے کہ ہم نے سخن آرائی کی
اپنی بانہوں میں سِمٹ آئی ہے وہ قوسِ قزح
لوگ تصوِیر ہی کھینچا کیے انگڑائی کی
غیرتِ عِشق بَجا طعنۂ یاراں تسلِیم
بات کرتے ہیں مگر سب اُسی ہرجائی کی
اُن کو بُھولے ہیں تو کُچھ اور پریشاں ہیں فرازؔ
اپنی دانست میں دل نے بڑی دانائی کی
احمد فرازؔ
Ahmad Faraz

Comments
Post a Comment