Ishq Aatish Hai , Buhat Tez Na Bhadkavu Isay Dheema Dheema Jalo , Sabar Se Sulgavu Isay
عشق آتش ہے، بہت تیز نہ بھڑکاؤ اسے
دھیما دھیما سا جلو، صبر سے سلگاؤ اسے
Ishq Aatish Hai , Buhat Tez Na Bhadkavu Isay
Dheema Dheema Jalo , Sabar Se Sulgavu Isay
کوئی دارو نہ دوا کام کرے گی اس پر
جس کے ہاتھوں میں مسیحائی ہے، لے آؤ اسے
لڑ کھڑاتا نہ سنبھلتا ہے جنوں کا مارا
دھیرے دھیرے سے نگل جائے گا یہ گھاؤ اسے
وہ جو غرقاب ہے دریا کی فراوانی میں
ڈوب جانے سے بچا سکتی ہے کیا ناؤ اسے
وو نہیں مانتا بن مۓ کے بہکنا؟ اچھا
آنکھ اٹھاؤ، اسے دیکھو، ذرا بہکاؤ اسے
جس کی تعبیر الٹ جائے نئی صبح کے بعد
وصل کا ایسا کوئی خواب نہ دکھلاؤ اسے
درد ہے، اٹھتا ہوا درد کہ اس شخص کی یاد
زخم ہے، رستا ہوا زخم ہے، سہلاؤ اسے
فرح گوندل
Farah Gondal

Comments
Post a Comment