Jab Tera Samna Nahi Hota Dil Bhi Naghma Sara Nahi Hota
جب ترا سامنا نہیں ہوتا
دل بھی نغمہ سرا نہیں ہوتا
Jab Tera Samna Nahi Hota
Dil Bhi Naghma Sara Nahi Hota
برہمی کی یہ حد آخر ہے
اب وہ ہم سے خفا نہیں ہوتا
توڑ دیتا ہے خواب پل بھر میں
رنج اس کو ذرا نہیں ہوتا
عشق اس کو نہ پھر کہا جائے
جو بھی صبر آزما نہیں ہوتا
جو ہوئی آرزوئے تنہائی
کیا وہاں پر خدا نہیں ہوتا
رضیہ سبحان
Razia Subhan

Comments
Post a Comment