Yun Hi Aik Tuhmat Hai , Dushmanon Se Miltay Hein Dil Ko Zakham Ziyada Tar Doston Se Miltay Hein
یوں ہی ایک تہمت ہے، دشمنوں سے ملتے ہیں
دِل کو زخم زیادہ تر دوستوں سے ملتے ہیں
Yun Hi Aik Tuhmat Hai , Dushmanon Se Miltay Hein
Dil Ko Zakham Ziyada Tar Doston Se Miltay Hein
پہلے شوق رکھتے تھے قربتیں بڑھانے کے
اب تو جس سے ملتے ہیں، فاصلوں سے ملتے ہیں
دلفگار ملتے ہیں دلبروں سے اب ایسے
جیسے ڈوبنے والے ساحلوں سے ملتے ہیں
زیست کی جماعت میں اور بھی معلم ہیں
جو سبق مگر دل کو گردشوں سے ملتے ہیں
ہر پتہ اذیت کا سسکیاں نہیں ہوتیں
کچھ سراغ دردوں کے قہقہوں سے ملتے ہیں
دل کہاں بتائے گا دل پہ کیا گزرتی ہے
دل کے سلسلے جاناں خامُشوں سے ملتے ہیں

Comments
Post a Comment