Chalta Phirta Hoa Woh Tum Ne Jo Gham Daikha Tha Kon Kehta Hai Keh Tum Ne Mujhe Daikha Tha
چلتا پھرتا ہوا وہ تم نے جو غم دیکھا تھا
کون کہتا ہے کہ تم نے مجھے کم دیکھا تھا
Chalta Phirta Hoa Woh Tum Ne Jo Gham Daikha Tha
Kon Kehta Hai Keh Tum Ne Mujhe Daikha Tha
آئینہ آج اٹھایا تو بہت روتے رہے
اپنی صورت کی جگہ ہم نے الم دیکھا تھا
آج کی رات وحی درد بھری اترے گی
آج پھر آپ کی آنکھوں کو جو نم دیکھا تھا
اب جو ہر بات پہ روتے ہوئے ہنس دیتا ہے
جانے اس شخص نے کس طرز کا غم دیکھا تھا
تھام کر ہاتھ سلیقے سے گرا دیتے تھے
شہر والوں کا کئی بار کرم دیکھا تھا
عشق میں دو کا تصور نہیں ہو سکتا ناں
ہم نے اک ذات میں اک ذات کو ضم دیکھا تھا

Comments
Post a Comment