Hansi Chupa Bhi Gaya Aur Nazar Nazar Mila Bhi Gaya Yeh Ik Jhalak Ka Tamasha Jigar Jala Bhi Gaya
ہنسی چھپا بھی گیا اور نظر ملا بھی گیا
یہ اک جھلک کا تماشہ جگر جلا بھی گیا
Hansi Chupa Bhi Gaya Aur Nazar Nazar Mila Bhi Gaya
Yeh Ik Jhalak Ka Tamasha Jigar Jala Bhi Gaya
اٹھا تو جا بھی چکا تھا عجیب مہماں تھا
صدائیں دے کے مجھے نیند سے جگا بھی گیا
غضب ہوا جو اندھیرے میں جل اٹھی بجلی
بدن کسی کا طلسمات کچھ دکھا بھی گیا
نہ آیا کوئی لب بام شام ڈھلنے لگی
وفور شوق سے آنکھوں میں خون آ بھی گیا
ہوا تھی، گہری گھٹا تھی، حنا کی خوشبو تھی
یہ ایک رات کا قصہ لہو رلا بھی گیا
چلو منیرؔ چلیں، اب یہاں رہیں بھی تو کیا
وہ سنگدل تو یہاں سے کہیں چلا بھی گیا
منیرؔ نیازی
Munir Niazi

Comments
Post a Comment