Woh Dil Dil Hi Nahi Jisko Kisi Ka Gham Nahi Hota Woh Aankhein Hi Nahi Jin Ka Kinara Nam Nahi Hota
وہ دل دل ہی نہیں جس کو کسی کا غم نہیں ہوتا
وہ آنکھیں ہی نہیں جن کا کنارہ نم نہیں ہوتا
Woh Dil Dil Hi Nahi Jisko Kisi Ka Gham Nahi Hota
Woh Aankhein Hi Nahi Jin Ka Kinara Nam Nahi Hota
بہاروں میں اجڑ جاتی ہیں پھولوں سے بھری بیلیں
جھلس کر راکھ ہونے کا کوئی موسم نہیں ہوتا
بچھڑنے کی شرائط بھی اگر طے مل کے کر لیتے
تجھے بھی غم نہیں ہوتا، مجھے بھی غم نہیں ہوتا
یہ راز عشق ہے، اس کی روایت ہے یہی صاحب
بھڑک اٹھے جو یہ شعلہ تو پھر مدہم نہیں ہوتا
ہمیں اب روشنی کی اور ہی تفہیم کرنی ہے
چراغوں کو جلانے سے اندھیرا کم نہیں ہوتا

Comments
Post a Comment