Yeh Baagh Yeh Gulab Humare Liye Nahi Kuch Bhi Yahan Janab Humare Liye Nahi
یہ باغ یہ گلاب ہمارے لیے نہیں
کچھ بھی یہاں جناب ہمارے لیے نہیں
Yeh Baagh Yeh Gulab Humare Liye Nahi
Kuch Bhi Yahan Janab Humare Liye Nahi
اس میکدے کو آگ لگانی بھی چاہیے
اِس میں اگر شراب ہمارے لیے نہیں
دنیا ہمیں خراب سمجھتی ہے، ٹھیک ہے
دنیا مگر خراب ہمارے لیے نہیں
ہر بات، ہر سوال وہ سنتی ہے غور سے
لیکن کوئی جواب ہمارے لیے نہیں
اس نے تو ایک بار بھی دیکھا نہیں ہمیں
اِس سے بڑا عذاب ہمارے لیے نہیں
خوش ہو رہے ہیں یار اُسے دیکھ دیکھ کر
لیکن وہ ماہتاب ہمارے لیے نہیں
اِس پر لکھا ہے نام کسی اور شخص کا
مطلب کہ یہ کتاب ہمارے لیے نہیں
آتا ہے روز روز جلانے کے واسطے
دیکھو یہ آفتاب ہمارے لیے نہیں
رمزی آثم
Ramzi Aasim

Comments
Post a Comment