Yeh Kar e Muhabbat Bhi Musalsal Nahi Hota Hai Masla Dil Ka Jo Kabhi Hal Nahi Hota
یہ کارِ محبت بھی مسلسل نہیں ہوتا
ہے مسئلہ دل کا جو کبھی حل نہیں ہوتا
Yeh Kar e Muhabbat Bhi Musalsal Nahi Hota
Hai Masla Dil Ka Jo Kabhi Hal Nahi Hota
یہ بوجھ اُٹھانا بھی تو آساں نہیں لیکن
بن عشق کے انسان مکمل نہیں ہوتا
دنیا تو چلے جاتی ہے، چلتی ہی رہے گی
وہ ماہ لقا آنکھ سے اوجھل نہیں ہوتا
اشکوں میں سبھی خواب بہے جاتے ہیں میرے
کرتا ہوں درِ خواب مقفل نہیں ہوتا
بیٹھے ہیں ترے پاؤں میں ہم لوگ تو جانا
جھک جانے سے تو کوئی بھی اسفل نہیں ہوتا
یہ خام خیالی ہے، تری پالی ہوئی ہے
ہر شخص جدائی میں تو پاگل نہیں ہوتا
منان گزرتا ہے قیامت سے شب و روز
یادوں کا تسلسل جو معطل نہیں ہوتا
منان سرمد
Manan Surmad

Comments
Post a Comment