Baat Aisi Hai Keh Danista Kaha Kuch Bhi Nahi Hum Samajhtay Thay Keh Mar Jaeinge Jab Woh Badly
بات ایسی ہے کہ دانستہ کہا کچھ بھی نہیں
ہم سمجھتے تھے کہ مر جائیں گے جب وہ بدلے
Baat Aisi Hai Keh Danista Kaha Kuch Bhi Nahi
Hum Samajhtay Thay Keh Mar Jaeinge Jab Woh Badly
وہ بدلتے ہی گئے ہم کو ہوا کچھ بھی نہیں
جب جیے ہم تو ہوا راز یہ افشاں سارا
زیست ناکام تمنا کے سوا کچھ بھی نہیں
غیر محسوس طریقے سے ہوئی عمر تمام
اور محسوس یہ ہوتا ہے جیا کچھ بھی نہیں
جتنے دن رات ملے جتنے ماہ و سال کٹے
یونہی بے کار گئے اور کیا کچھ بھی نہیں
ہاتھ اٹھے تھے تمناؤں کی یلغار بھی تھی
ہونٹ ہلتے رہے اور حرفِ دعا کچھ بھی نہیں
جانے کس بات کا رنج ان کو رہا زندگی بھر
یاد پڑتا ہے ہمیں ایسا کیا کچھ بھی نہیں
اپنی غلطی کہ انھیں ہم نے مثالی سمجھا
وہ بھی اوروں کی طرح ہی تھے جدا کچھ بھی نہیں
اک تعلق تھا نبھانا تھا، نبھاتے گزری
عشق، ایثار، وفا اور جفا کچھ بھی نہیں
شگفتہ نعیم ہاشمی
Shagufta Naeem Hashimy

Comments
Post a Comment