Husn Wale Tera Jawab Nahi Koi Tujh Sa Nahi Hazaron Mein
حسن والے تیرا جواب نہیں
کوئی تجھ سا نہیں ہزاروں میں
Husn Wale Tera Jawab Nahi
Koi Tujh Sa Nahi Hazaron Mein
تو ہے ایسی کلی جو گلشن میں
ساتھ اپنے بہار لائی ہو
تو ہے ایسی کرن جو رات ڈھلے
چاندنی میں نہا کے آ ئی ہو
یہ تیرا نور یہ تیرے جلوے
جس طرح چاند ہو ستاروں میں
تیری آنکھوں میں ایسی مستی ہے
جیسے چھلکے ہوئے ہوں پیمانے
تیری ہونٹوں پہ وہ خموشی ہے
جیسے بکھرے ہوئے ہوں افسانے
تیری زلفوں کی ایسی رنگت ہے
جیسے کالی گھٹا بہاروں میں
تیری صورت جو دیکھ لے شاعر
اپنے شعروں میں تازگی بھر کے
اک مصور جو تجھ کو پا جائے
اپنی خوابوں میں زندگی بھر لے
نغمہ گر ڈھونڈ لے اگر تجھ کو
درد بھر لے وہ دل کے تاروں میں
حسن والے تیرا جواب نہیں
کوئی تجھ سا نہیں ہزاروں میں
شکیل بدایونی
Shakeel Badayuni

Comments
Post a Comment