Rooh Tak Rasta Banaya Ja Raha Hai Jism Ko Zareeya Banaya Ja Raha Hai
روح تک رستہ بنایا جا رہا ہے
جسم کو ذریعہ بنایا جا رہا ہے
Rooh Tak Rasta Banaya Ja Raha Hai
Jism Ko Zareeya Banaya Ja Raha Hai
زخم پر نہیں آنکھ پر باندھی ہے پٹی
چوٹ کو اندھا بنایا جا رہا ہے
نسل کو اس بھیڑ کا عادی بنا کر
اصل میں تنہا بنایا جا رہا ہے
پاپ کو انجام دینے کے لیئے اب
دھرم کو ذریعہ بنایا جا رہا ہے
زندگی کا میل ہے یہ شاعری بھی
میل سے پیسہ بنایا جا رہا ہے

Comments
Post a Comment