Tum Ko Hum Khaak Nasheenon Ka Khayal Aane Tak Shehar Toh Shehar Badal Jaeingy Weerany Tak
تم کو ہم خاک نشینوں کا خیال آنے تک
شہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تک
Tum Ko Hum Khaak Nasheenon Ka Khayal Aane Tak
Shehar Toh Shehar Badal Jaeingy Weerany Tak
صبح ہوتی نہیں اے عشق، یہ کیسی شب ہے
قیس و فرہاد کے دہرا لیے افسانے تک
پھر نہ طوفان اٹھیں گے نہ گرے گی بجلی
یہ حوادث ہیں غریبوں ہی کے مٹ جانے تک
میں وہاں کیسے حقیقت کو سلامت رکھوں
جس جگہ رد و بدل ہو گئے افسانے تک
باغباں فصل بہار آنے پہ وعدہ تو قبول
اور اگر ہم نہ رہے فصل بہار آنے تک
اے قمر صبح ہوئی، اب تو اٹھو محفل سے
شمع گل ہو گئی، رخصت ہوئے پروانے تک
قمر جلالوی
Qamar Jalalvi

Comments
Post a Comment