Aankhein Shikasta Hal Thein Par Housla Toh Tha Mud Mud Ke Aik Shakhs Mujhe Daikhta Toh Tha
آنکھیں شِکستہ حال تھیں پر حوصلہ تو تھا
مُڑ مُڑ کے ایک شخص مجھے دیکھتا تو تھا
Aankhein Shikasta Hal Thein Par Housla Toh Tha
Mud Mud Ke Aik Shakhs Mujhe Daikhta Toh Tha
ہر بار اک ہوا تو نہ تھی مجھ کو چھیڑتی
کھڑکی سے چُپکے چُپکے کوئی جھانکتا تو تھا
وہ چھوڑ کر گیا تھا مگر دوستی تو تھی
کم کم سہی پر اس سے مرا رابطہ تو تھا
اب اُس کے حُسنِ ناز کی کیوں مِدحتیں کروں
بیشک حسین شخص تھا پر بیوفا تو تھا
گُزرے دِنوں کی یاد تھی، آ کر چلی گئی
لوگو پر اس کی یاد میں آنسو بہا تو تھا
عاقب انا کی بات تھی ورنہ وہ شخص بھی
ہم کو کسی زمانے میں ہی چاہتا تو تھا
عاقب شہزاد
Aaqib Shehzad

Comments
Post a Comment