Ghamza Nahi Hota Keh Ishara Nahi Hota Aankh Unse Jo Milti Toh Kia Kia Nahi Hota
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتا
آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا
Ghamza Nahi Hota Keh Ishara Nahi Hota
Aankh Unse Jo Milti Toh Kia Kia Nahi Hota
جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا
بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا
اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو
سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا
تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے
ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا
میں نزع میں ہوں، آئیں تو احسان ہے ان کا
لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشہ نہیں ہوتا
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
اکبر الہ آبادی
Akbar Ilahabadi

Comments
Post a Comment