Hijrat Ka Irada Toh Humara Bhi Nahi Tha Par Is Ke Alawa Koi Chara Bhi Nahi Tha
ہجرت کا ارادہ تو ہمارا بھی نہیں تھا
پر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا
Hijrat Ka Irada Toh Humara Bhi Nahi Tha
Par Is Ke Alawa Koi Chara Bhi Nahi Tha
دو بول بھی میٹھے نہیں تھے ہم کو میسر
یعنی ہمیں تنکے کا سہارا بھی نہیں تھا
اس وقت کے صدموں نے مجھے چاٹ لیا ہے
جو وقت ابھی میں نے گزارا بھی نہیں تھا
کیا دن تھے کہ غم ہو کہ خوشی، دوست کہ دشمن
جو تیرا نہیں تھا وہ ہمارا بھی نہیں تھا
اس شخص نے زندہ بھی نہیں چھوڑا تھا مجھ کو
حالانکہ مجھے جان سے مارا بھی نہیں تھا
اسماعیل راز
Ismail Raz

Comments
Post a Comment