Israr e Ishq Hai Dil Maztar Liye Hoe Qatra Hai Beqarar Samandar Liye Hoe



اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے
قطرہ ہے بیقرار سمندر لیے ہوئے
Israr e Ishq Hai Dil Maztar Liye Hoe
Qatra Hai Beqarar Samandar Liye Hoe

آشوب دہر و فتنۂ محشر لیے ہوئے
پہلو میں یعنی ہو دل مضطر لیے ہوئے

موج نسیم صبح کے قربان جائیے
آئی ہے بوئے زلف معنبر لیے ہوئے

کیا مستیاں چمن میں ہیں جوش بہار سے
ہر شاخ گل ہے ہاتھ میں ساغر لیے ہوئے

قاتل نگاہ یاس کی زد سے نہ بچ سکا
خنجر تھے ہم بھی اک تہ خنجر لیے ہوئے

خیرہ کیے ہے چشم حقیقت شناس بھی
ہر ذرہ ایک مہر منور لیے ہوئے

پہلی نظر بھی آپ کی اف کس بلا کی تھی
ہم آج تک وہ چوٹ ہیں دل پر لیے ہوئے

تصویر ہے کھنچی ہوئی ناز و نیاز کی
میں سر جھکائے اور وہ خنجر لیے ہوئے

صہبائے تند و تیز کو ساقی سنبھالنا
اچھلے کہیں نہ شیشہ و ساغر لیے ہوئے

میں کیا کہوں کہاں ہے محبت کہاں نہیں
رگ رگ میں دوڑی پھرتی ہے نشتر لیے ہوئے

اصغرؔ حریم عشق میں ہستی ہی جرم ہے
رکھنا کبھی نہ پاؤں یہاں سر لیے ہوئے
اصغرؔ گونڈوی
Asghar Gondvi


Comments

Popular posts from this blog

Dukh Ye Hai Mera Yousaf o Yaqoob Ke Khaliq Woh Log Bhi Bichdey Jo Bichadnay Ke Nahi Thay

Mujh Se Meri Umar Ka Khasara Poochtay Hein Ya'ani Log Mujh Se Tumhara Poochtay Hein

Mere Tan Ke Zakham Na Gin Abhi Meri Aankh Mein Abhi Noor Hai