Juda Hon Dil Tou Bichadne Ke Dar Nahi Rehty Hein Kuch Makan Jo Ta Der Ghar Nahi Rehty
جدا ہوں دل تو بچھڑنے کے ڈر نہیں رہتے
ہیں کچھ مکان جو تا دیر گھر نہیں رہتے
Juda Hon Dil Tou Bichadne Ke Dar Nahi Rehty
Hein Kuch Makan Jo Ta Der Ghar Nahi Rehty
نقوشِ یار بھی یادوں سے مِٹتے جاتے ہیں
پرندے شام تک دیوار پر نہیں رہتے
مفاہمت کے دیئے سر جُھکا ہی لیتے ہیں
ہوا کے سامنے سینہ سِپَر نہیں رہتے
قدم کے ساتھ قدم کا ملانا لازم ہے
جو ساتھ چل نہ سکیں، ہمسفر نہیں رہتے
اگر یقین کا سورج سدا نہیں رہتا
گماں کے سائے بھی بعد از سَحَر نہیں رہتے
سامیہ ناز سیمیں
Samia Naz Seemein

Comments
Post a Comment