Meri Aankhon Ko Aankhon Ka Kinarah Kon Dayga Samandar Ko Samandar Mein Sahara Kon Dayga
مری آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ کون دے گا
سمندر کو سمندر میں سہارا کون دے گا
Meri Aankhon Ko Aankhon Ka Kinarah Kon Dayga
Samandar Ko Samandar Mein Sahara Kon Dayga
مرے چہرے کو چہرہ کب عنایت کر رہے ہو
تمہیں میرے سوا چہرہ تمہارا کون دے گا
مرے دریا نے اپنے ہی کنارے کاٹ ڈالے
بپھرتے پانیوں کو اب سہارا کون دے گا
بدن میں ایک صحرا جل رہا ہے، بجھ رہا ہے
مرے دریاؤں کو پہلا اشارہ کون دے گا
محبت نیلا موسم بن کے آ جائے گی اک دن
گلابی تتلیوں کو پھر سہارا کون دے گا
افتخار قیصر
Iftekhar Qaisar

Comments
Post a Comment