Na Todo Zindagi Reshta Jahan Se Mily Ga Phir Koi Sathi Kahan Se
نہ توڑو زندگی رشتہ جہاں سے
ملے گا پھر کوئی ساتھی کہاں سے
Na Todo Zindagi Reshta Jahan Se
Mily Ga Phir Koi Sathi Kahan Se
جفائیں ہوں کہ دکھ رکھ لو خوشی سے
کہ بہتر ہیں یہ عمرِ رائیگاں سے
بہاروں سے نہ اتنا دل لگاؤ
کہ وحشت ہو چلے تم کو خزاں سے
وہ منظر ریت کے ساحل میں گم ہیں
یہی امید تھی آبِ رواں سے
یہ آنکھیں غم سے بوجھل ہو چلی ہیں
اتر آئے مسیحا آسماں سے
شائستہ مفتی
Shaista Mufty
ملے گا پھر کوئی ساتھی کہاں سے
Na Todo Zindagi Reshta Jahan Se
Mily Ga Phir Koi Sathi Kahan Se
جفائیں ہوں کہ دکھ رکھ لو خوشی سے
کہ بہتر ہیں یہ عمرِ رائیگاں سے
بہاروں سے نہ اتنا دل لگاؤ
کہ وحشت ہو چلے تم کو خزاں سے
وہ منظر ریت کے ساحل میں گم ہیں
یہی امید تھی آبِ رواں سے
یہ آنکھیں غم سے بوجھل ہو چلی ہیں
اتر آئے مسیحا آسماں سے
شائستہ مفتی
Shaista Mufty

Comments
Post a Comment