Shehar Ke Dhoop Se Poochein Kabhi Gavoun Wale Kia Hoe Log Woh Zulfon Ki Ghataoun Wale
شہر کی دھوپ سے پوچھیں کبھی گاؤں والے
کیا ہوئے لوگ وہ زلفوں کی گھٹاؤں والے
Shehar Ke Dhoop Se Poochein Kabhi Gavoun Wale
Kia Hoe Log Woh Zulfon Ki Ghataoun Wale
اب کے بستی نظر آتی نہیں اجڑی گلیاں
آؤ ڈھونڈیں کہیں درویش دعاؤں والے
سنگزاروں میں مرے ساتھ چلے آئے تھے
کتنے سادہ تھے وہ بلورّ سے پاؤں والے
ہم نے ذروں سے تراشے تری خاطر سورج
اب زمیں پر بھی اتر زرد خلاؤں والے
کیا چراغاں تھا محبت کا کہ بجھتا ہی نہ تھا
کیسے موسم تھے وہ پر شور ہواؤں والے
ہونٹ سی کر بھی کہاں بات بنی ہے محسن
خامشی کے سبھی تیور ہیں صداؤں والے
سید محسن نقوی
Sayed Mohsin Naqvi

Comments
Post a Comment