Sitam Ka Silsila Aagay Bhi Kuch Barha Keh Nahi Humare Jaisa Koi Ab Talak Mila Keh Nahi
ستم کا سلسلہ آگے بھی کچھ بڑھا کہ نہیں
ہمارے جیسا کوئی اب تلک ملا کہ نہیں
Sitam Ka Silsila Aagay Bhi Kuch Barha Keh Nahi
Humare Jaisa Koi Ab Talak Mila Keh Nahi
بس ایک بار ہی مل کر مجھے تو اچھا لگا
سو اپنا اپنا سا میں بھی تجھے لگا کہ نہیں
میں اس کے بارے میں پوچھوں گا شاعروں سے کبھی
وہ اب بھی شعر سناتی ہے شاعرہ کہ نہیں
کہا نہیں تھا کہ یہ عشق چھپ نہیں سکتا
تمام شہر کو دیکھو پتہ چلا کہ نہیں
مَیں تیرے واسطے خاموش ہو گیا لیکن
مجھے تو چھوڑ کے اب مطمئن ہوا کہ نہیں
کبھی ملا تو یہ اس سے ضرور پوچھیں گے
ہمارے بعد بھی وہ پارسا رہا کہ نہیں
صغیر آ کے پرندے یہ روز پوچھتے ہیں
چمن میں اور کوئی گل نیا کھلا کہ نہیں
صغیر احمد صغیر
Sagheer Ahmad Sagheer

Comments
Post a Comment