Tere Khuwab Mujh Ko Nigal Gaye , Teri Aadatein Mujhe Kha Gaein Yeh Sanbhal Apni Muhabbatein Yeh Muhabbatein Mujhe Kha Gaein
ترے خواب مجھ کو نگل گئے، تری عادتیں مجھے کھا گئیں
یہ سنبھال اپنی محبتیں یہ محبتیں مجھے کھا گئیں
Tere Khuwab Mujh Ko Nigal Gaye , Teri Aadatein Mujhe Kha Gaein
Yeh Sanbhal Apni Muhabbatein Yeh Muhabbatein Mujhe Kha Gaein
تجھے لگ رہا ہے سخن وری بڑی چیز ہے مری جان پر
مجھے میرے حرف نگل گئے، مری شہرتیں مجھے کھا گئیں
میں وہ دشت ہوں جہاں دور تک کوئی آیا ہے، نہ ہی آئے گا
مجھے میرے کرب نے ڈس لیا مری وحشتیں مجھے کھا گئیں
یہ بجا کہ تیری زمین پر ہیں وجودِ زن سے ہی رونقیں
مرا دُکھ سمجھ مرے مالکا، یہی صورتیں مجھے کھا گئیں
ترے آندھیوں سے مزاج نے تجھے رکنے ہی نہ دیا کہیں
تجھے کچھ ہوا کہ نہیں ہوا تری عجلتیں مجھے کھا گئیں
میں کِھلا تو کتنے تپاک سے مجھے دیکھتی رہی ہر نظر
یہ کسی پہ بھی نہیں کُھل سکا، یہ ہری رُتیں مجھے کھا گئیں
میں وہ عمر بھر کی مسافتوں کا تھکا مسافرِ بے اماں
کبھی تھک کے ٹھہرا ذرا کہیں تو سکونتیں مجھے کھا گئیں
میں بھی گھر سے نکلا تھا جن دِنوں تو میں اک وجیہ جوان تھا
مجھے راستوں نے نگل لیا یہ مسافتیں مجھے کھا گئیں
مری عمر بھر کی اذیتیں اسی ایک مصرعے میں بند ہیں
کئی حسرتوں کو میں کھا گیا کئی حسرتیں مجھے کھا گئیں
میثم علی آغا
Meesam Ali Aagha

Comments
Post a Comment