Woh Aik Boodha Shajar Sogwar Rehne Diya Sab Apne Ghar Ko Gaye , Khaksar Rehne Diya
وہ ایک بوڑھا شجر سوگوار رہنے دیا
سب اپنے گھر کو گئے، خاکسار رہنے دیا
Woh Aik Boodha Shajar Sogwar Rehne Diya
Sab Apne Ghar Ko Gaye , Khaksar Rehne Diya
مجھے سناتی تھیں آنکھیں کہانیاں کیا کیا
ادھورا خواب تھا اک یادگار، رہنے دیا
زمانہ فیض اٹھائے گا رہتی دنیا تک
تھا اک چراغ سرِ زرنگار، رہنے دیا
نہ ہو سکی کوئی کوشش بھی کارگر آخر
فضا میں پھیلا ہوا انتشار رہنے دیا
میں اپنے خواب بچا کر وہاں سے لے آئی
شکست و ریخت کا اک کاروبار رہنے دیا
وہ قافلے کا جری شہسوار تھا لوگو
جو گر پڑا تو سرِ راہگزار رہنے دیا
وہ خامشی سے مجھے روکتی ہوئی آنکھیں
صدائے حیف تجھے اشکبار رہنے دیا
شائستہ مفتی
Shaista Mufty

Comments
Post a Comment