Latest Post
Loading...

Khat To Bheja Hai Magar Safhay Ko Saada Rakha,Jane Uss Shaks Ne Kia Dil Mein Irada Rakha



خط تو  بھیجاہے مگر صفحے کو سادہ رکھا
جانے اس شخص نے کیا دل میں ارادہ رکھا

لوگ آتے رہے اور چھوڑ کے جاتے بھی رہے
ہم نے ہر حال میں اس دل کو کشادہ رکھا

 مجھ کو پابند کیا اور وہ آزاد رہا
 وقت ِ رخصت ،  جو پلٹنے کا بھی وعدہ رکھا

اس لیے مات پہ ہوتی ہی رہی مات مجھے
ہوش کم اور جنوں تھوڑا زیادہ رکھا

ہم نے شطرنج بھی کھیلی ہے محبت کی طرح
شاہ کو مات نہ ہوجائے ، پیادہ رکھا

دلشاد نسیم
 

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer