Latest Post
Loading...

Haath Ki Lakeeron Ki Misaal Kia Kahon,Jotion Se Jhank Rahe Daal Kia Kahon (Razab Tabraiz)


ھاتھ کی لکیروں کی
مثال کیا کہوں
جوتیوں سے جھانک رہی
دال کیا کہوں

دل کے کاروبار کی
دکان چل بسی
بعدِ پنچھی آج کوئی
فال کیا کہوں

پرکھ کی عزیزہ کا
سہاگ لٹ گیا
جانچ بیوہ ہوگئ
پڑتال کیا کہوں

قوّتِ مدافع میں
تخفیف دیکھ کر
اپنے اندر اپنی ہی
ہڑتال کیا کہوں

محبتوں کے مافیے میں
پھیل کی لہر
رختِ ہستی میں
"کئ کنال" کیا کہوں

کالے چور لے گئے
ایِذا کی مُرکِیاں
بےحِسی کے ٹھیکے پہ
سُرتال کیا کہوں

خیال بھی حقیقتوں کا
گھر داماد ہے
ایسا بہتر اصل سے
نقّال کیا کہوں

وقت کے بہاؤ میں
سَت رنگی تیزیاں
پیلگی سے ہوگیا ہے
لال کیا کہوں

ٹِکٹِکی کی سلطنت
کا اندھا بادشاہ
پچھلے پہر رات کا
گھڑیال کیا کہوں

تقسیمِ ہند کی طرح
گنوا دیا رزب
سکونِ قلب، جی کا
اندمال کیا کہوں
رزب تبریز

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer