Latest Post
Loading...

Main Jabr-e-Musalsal Ki Shikayat Nahi Karta,Main Hatul-Imkaan Dard Hikayat Nahi Karta (Razab Tabraiz)


میں جبر_مسلسل کی
شکایت نہیں کرتا
میں حتّی الاِمکان درد
حکایت نہیں کرتا

میں ہم مزاج رکهتا ہوں
آنسو کی سادگی
میں مرضئ تقدیر کو
غارت نہیں کرتا

ازخود میں چهانٹ لیتا
ہوں تنسیخی سوالات
زاہد سے کسی طور
بجهارت نہیں کرتا

میں پتهروں کے واسطے
حاتم کا جانشین
میں لشکر_عدو سے
حقارت نہیں کرتا

ابرو کو نہیں سونپتا
اندرونی خیالات
قصدًا میں خزانے میں
خیانت نہیں کرتا

تیور یا تیوری کی
مجهے قسم نہیں ہے
میں قلب کی پریوں سے
ضمانت نہیں کرتا

بحث برائے بحث سے
کرتا ہوں احتراز
میں خواہ مخواہ سرکار
ذہانت نہیں کرتا

رزب اپنے خون سے
ہے استثنا مجهے
میں لاش اٹهانے میں
ندامت نہیں کرتا
(رزب تبریز)

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer