Badan Ki Qaid Mein Reh Kar Tamam Tar Kato Yeh Umar Koi Saza Hai Keh Umar Bhar Kato?
بدن کی قید میں رہ کر تمام تر کاٹو
یہ عمر کوئی سزا ہے کہ عمر بھر کاٹو ؟
رہے نہ ایک بھی حامی یہاں محبت کا
جلادو پھول کی شاخوں کو اور شجر کاٹو
کھلی فضائیں دکھاتا تھا مجھکو اور اک روز
کسی نے اسکو سکھایا کہ اس کے پر کاٹو
تمہارے فائدے نقصان کا ہی ذکر نہ ہو
کسی کی بات جو کاٹو تو سوچ کر کاٹو
پنپ رہی ہے بغاوت سو تم پہ واجب ہے
ہماری آنکھیں نکالو ، ہمارے سر کاٹو
یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ میرے پاس رہو
تمہارا وقت ہے ، چاہے جہاں جدھر کاٹو
بڑی ہی عمدہ لکھی داستاں محبت کی
مگر جو لفظ اضافی لکھا ہے "ڈر" ، کاٹو
تمام عمر کی آوارگی کے بعد کھلا
نہ دل کی بات سنو اور نہ در بہ در کاٹو
کومل جوئیہ

Comments
Post a Comment