Andhere Door Kare , Noor Se Ujalay Mujhe Koi Toh Ho Jo Tere Bad Bhi Sanbhaly Mujhe
اندھیرے دور کرے، نور سے اجالے مجھے
کوئی تو ہو جو ترے بعد بھی سنبھالے مجھے
Andhere Door Kare , Noor Se Ujalay Mujhe
Koi Toh Ho Jo Tere Bad Bhi Sanbhaly Mujhe
ابھی میں ریل کی پٹڑی سے دور بیٹھا ہوں
ابھی ہے وقت اگر ہو سکے منالے مجھے
میں سونپ دوں اسے انعام میں بچی سانسیں
مرے وجود کے ملبے سے جو نکالے مجھے
میں مر رہا ہوں مگر سانس دے رہے ہیں بہم
تمہاری ذات سے منسوب کچھ حوالے مجھے
نشانِ میل کی رنگینیوں کے صدقے ہوئے
بہت عزیز ہیں پاؤں کے سارے چھالے مجھے
آزاد حسین آزاد
Aazad Husain Aazad

Comments
Post a Comment