Kyun Tere Saath Rahein Umar Basar Hone Tak Hum Na Daikheingy Imarat Ko Khandar Hone Tak
کیوں ترے ساتھ رہیں عمر بسر ہونے تک ہم نہ دیکھیں گے عمارت کو کھنڈر ہونے تک Kyun Tere Saath Rahein Umar Basar Hone Tak Hum Na Daikheingy Imarat Ko Khandar Hone Tak تم تو دروازہ کھلا دیکھ کے در آئے ہو تم نے دیکھا نہیں دیوار کو در ہونے تک چپ رہیں، آہ بھریں، چیخ اٹھیں یا مر جائیں کیا کریں بے خبرو تم کو خبر ہونے تک ہم پہ کر دھیان ارے چاند کو تکنے والے چاند کے پاس تو مہلت ہے سحر ہونے تک حال مت پوچھیے کچھ باتیں بتانے کی نہیں بس دعا کیجیے دعاؤں میں اثر ہونے تک سگ آوارہ کے مانند محبت کے فقیر در بدر ہوتے رہے شہر بدر ہونے تک دشت خاموش میں دم سادھے پڑا رہتا ہے پاؤں کا پہلا نشاں راہگزر ہونے تک فانی ہونے سے نہ گھبرائیے فارسؔ کہ ہمیں ان گنت مرتبہ مرنا ہے امر ہونے تک رحمان فارسؔ Rehman Faris