Daikhongi Apne Aap Se Fursat Nikal Ke Rakhy Hoe Hein Yaad Ke Gehny Sanbhal Ke
دیکھوں گی اپنےآپ سے فرصت نکال کے
رکھے ہوئے ہیں یاد کے گہنے سنبھال کے
Daikhongi Apne Aap Se Fursat Nikal Ke
Rakhy Hoe Hein Yaad Ke Gehny Sanbhal Ke
آ جاؤ ایک بار کریں ایسی گفتگو
رکھ دیں جہانِ حرف کو حیرت میں ڈأل کے
یہ عشق ہے کہ درمیاں جوئے کی میز ہے
دل کا بھی فیصلہ کروں سِکّہ اچھال کے
بیٹھی ہوں میں بھی جھاڑ کےمٹی وجود کی
آیا ہوا ہے وہ بھی زمانے کو ٹال کے
یہ زندگی کتاب ہے اور جلد ساز نے
مرضی سے باندھ ڈألے ہیں صفحے زوال کے
اک شاہ کو کنیز کی سازش نگل گئی
تیور الگ پڑے رہے جاہ وجلال کے
صغریٰ صدف
Sughra Sadaf

Comments
Post a Comment