Kisi Par Nazam Lekhny Se Koi Mil Toh Nahi Jata
کسی پر نظم لکھنے سے
کوئی مِل تو نہیں جاتا
Kisi Par Nazam Lekhny Se
Koi Mil Toh Nahi Jata
کوئی تعریف
بانہوں کے برابر تو نہیں ہوتی
کسی آواز کے پاؤں
کبھی دل پر نہیں چلتے
کبھی کشکول میں
قوس و قزح اُتری نہیں دیکھی
صحیفہ رِحل پر رکھنے سے
قرآں تو نہیں بنتا
کسی نے آج تک
شاعر کے آنسو
خود نہیں پونچھے
دلاسہ، لفظ کی حد تک ہی اپنا کام کرتا ہے
کسی خواہش کو
سینے سے لگانے
کی اجازت تک نہیں ہوتی
تمھاری ضد کو پُورا کر دیا دیکھو
ستارے، چاند، سُورج، روشنی، خوشبو
تمھارے دَر پہ کیا کیا دھر دیا دیکھو
کوئی خوشبو کے ہونٹوں کو
بھلا کب چُوم سکتا ہے
گُلِ فردا
ابھی کِھل جاؤ، کہنے سے
کوئی کِھل تو نہیں جاتا
کسی پر نظم لکھنے سے
کوئی مِل تو نہیں جاتا

Comments
Post a Comment