Lehlehati Hoi Shadab Zameen Chahty Hein Aur Kia Tujh Se Tere Khaak-Nasheen Chahty Hein
لہلہاتی ہوئی شاداب زمیں چاہتے ہیں
اور کیا تجھ سے ترے خاک نشیں چاہتے ہیں
Lehlehati Hoi Shadab Zameen Chahty Hein
Aur Kia Tujh Se Tere Khaak-Nasheen Chahty Hein
ہم کو منظور نہیں پھر سے بچھڑنے کا عذاب
اس لیے تجھ سے ملاقات نہیں چاہتے ہیں
کب تلک در پہ کھڑے رہنا ہے، اُن سے پوچھو
کیا وہ محشر کا تماشہ بھی یہیں چاہتے ہیں
وہ جو کھڑکی میں اُسی طرح جلاتے ہیں چراغ
اس کا مطلب ہے ہمیں پردہ نشیں چاہتے ہیں
کون وعدوں پہ جیے حشر تلک، ظلم سہے
تیرے بندے، تیرا انصاف یہیں چاہتے ہیں
اتنی اونچی ہے کہ اب بیل کا دم گُھٹتا ہے
جانے دیوار سے کیا گھر کے مکیں چاہتے ہیں

Comments
Post a Comment