Main Woh Sari Batein Hawaoun Se Kehdon Jo Aankhon Hi Aankhon Mein Hum Ne Kahi Hein
”اگر تُم کہو تَو“
''Agar Tum Kaho Toh''
اگر تُم کہو تَو
مَیں وہ ساری باتیں ہَواؤں سے کہدُوں
جو آنکھوں ہی آنکھوں میں ہَم نے کہی ہیں
Main Woh Sari Batein Hawaoun Se Kehdon
Jo Aankhon Hi Aankhon Mein Hum Ne Kahi Hein
اِشاروں اِشاروں میں ہَم نے سُنی ہیں
کہ یہ آتے جاتے ہُوۓ نَرم جھونکے
ہر راستے پر مِری راہ روکے
کبھی میرے بالوں سے گجرا گِرا کر
کبھی میرے شانے کا پَلُّو ہِلا کر
مُجھے اِس طَرَح چھڑتے ہیں کہ جیسے
وہ سَب جانتے ہیں
اگر تُم کہو تَو
مَیں اَپنی فسُردَہ دِلی کے فسانے
اُمڈتے ہُوۓ بادلوں کو سُنا دُوں
فسانے جو خاموشیوں نے سُنے ہیں
جِنھیں سُن کے دِیوار و دَر رو دیۓ ہیں
کہ یہ رَس کے رَسیا
یہ گھنگور بادل
چُھپاۓ ہُوۓ اَپنی اَمرَت کی چھاگل
گرَج کر ڈرا کر
مِرے گھر پہ چھا کر
مُجھے اِس طَرَح دیکھتے ہیں کہ جیسے
وہ سب جانتے ہوں
اگر تُم کہو تَو
مَیں اَپنی کہانی سَمندَر سے کہدُوں
سَمندَر ہمارے جُنُوں کی علامَت
سَمندَر ہمارے سُکُوں کا نِشاں بھی
سَمندَر کہ طاقَت بھی، وُسعَت بھی، ماں بھی
جَبھی تَو سمندر کے وِیران گوشے
چٹانوں کی پَلکوں کے نَمکِین قطرے
وہ خود رَو بَبُولوں کے آزردَہ ساۓ
چَٹَختی زمِینوں کے مایُوس چہرے
مُجھے اِس طَرَح چاہتے ہیں کہ جیسے
وہ سب جانتے ہوں۔
زہرا نِگاہ
Zuhra Nigah

Comments
Post a Comment