Rahega Ishq Tera Khak Mein Mila Ke Mujhe Keh Ibteda Mein Hoe Ranj Inteha Ke Mujhe
رہے گا عشق ترا خاک میں ملا کے مجھے
کہ ابتدا میں ہوئے رنج انتہا کے مجھے
Rahega Ishq Tera Khak Mein Mila Ke Mujhe
Keh Ibteda Mein Hoe Ranj Inteha Ke Mujhe
دیئے ہیں ہجر میں دکھ درد کس بلا کے مجھے
شبِ فراق نے مارا لٹا لٹا کے مجھے
بغیر موت کے کس طرح کوئی مرتا ہے
یقیں نہ آئے تو وہ دیکھ جائیں آ کے مجھے
بلائے عشق تو دشمن کو بھی نصیب نہ ہو
مرا رقیب بھی رویا گلے لگا کے مجھے
کہا یہ دل نے چلو آج کوئے قاتل میں
اجل کہاں سے کہاں لے گئی لگا کے مجھے
ہر ایک شخص کو حاصل جدا ہے کیفیت
جفا کے لطف تجھے ہیں ، مزے وفا کے مجھے
غضب ہے آہ میری داغؔ نام ہے میرا
تمام شہر جلاؤ گے کیا جلا کے مجھے

Comments
Post a Comment