Sulagti Rait Ki Qismat Mein Darya Lekh Diya Jaye Mujhe Un Jheel See Aankhon Mein Rehna Lekh Diya Jaye
سلگتی ریت کی قسمت میں دریا لکھ دیا جائے
مجھے ان جھیل سی آنکھوں میں رہنا لکھ دیا جائے
Sulagti Rait Ki Qismat Mein Darya Lekh Diya Jaye
Mujhe Un Jheel See Aankhon Mein Rehna Lekh Diya Jaye
تری زلفوں کے سائے میں اگر جی لوں میں پل دو پل
نہ ہو پھر غم جو میرے نام صحرا لکھ دیا جائے
مرا اور اس کا ملنا اب تو ناممکن سا لگتا ہے
اسے سورج، مجھے شب کا ستارہ لکھ دیا جائے
اکیلا میں ہی کیوں آخر سجاؤں پلکوں پہ تارے
کبھی اس کی بھی پلکوں پہ ستارہ لکھ دیا جائے
مجھے چھوڑا ہے تپتی دھوپ میں جس شخص نے تنہا
اسے بھی غم کی دنیا میں اکیلا لکھ دیا جائے
جو شب خوں مارتا ہے میری بستی کے اجالوں پر
مقدر اس کے بھی گھر کا اندھیرا لکھ دیا جائے
کہیں بجھتی ہے دل کی پیاس اک دو گھونٹ سے انظرؔ
میں سورج ہوں مرے حصے میں دریا لکھ دیا جائے
عتیق انظرؔ
Ateeq Anzar


Comments
Post a Comment