Tu Jo Chahy Toh Purane Se Naya Ho Jaoun Main Shajar Sokha Hoa Dil Mein Hara Ho Jaoun
تو جو چاہے تو پرانے سے نیا ہو جاؤں
میں شجر سوکھا ہوا پل میں ہرا ہو جاؤں
Tu Jo Chahy Toh Purane Se Naya Ho Jaoun
Main Shajar Sokha Hoa Dil Mein Hara Ho Jaoun
جتنی آبادیاں مجھ میں ہیں فنا ہو جائیں
دشت میں جاؤں تو پھر دشت نما ہو جاؤں
جانے آدابِ اسیری تھے کہ آدابِ وفا
میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ رہا ہو جاؤں
جرم ثابت ہے تو پھر اتنی بھی تاخیر ہے کیوں
آپ ہی اپنے لیے کوئی سزا ہو جاؤں
زندگی میرے حوالے سے بہت خواب نہ دیکھ
میں کہ اپنا نہ ہوا کیسے ترا ہو جاؤں
کوئی غم ہوں تو رہوں دل کے نہاں خانے میں
کوئی جذبہ ہوں تو لفظوں میں ادا ہو جاؤں
شمشیر حیدر
Shamsheer Haidar

Comments
Post a Comment