Bujhay Diye Ko Bhi Soraj Banane Wale Hein Hum Apni Khuwaab Se Dunya Jagane Wale Hein
بجھے دیے کو بھی سورج بنانے والے ہیں
ہم اپنے خواب سے دنیا جگانے والے ہیں
ہم ایسے لوگ یہاں بت بنانے والے نہیں
بتوں کو توڑ کے پتھر بنانے والے ہیں
ہم اپنے دور کو آئیں نہ آئیں یاد مگر
ہم اپنے بعد بہت یاد آنے والے ہیں
زمیں پہ اُس نے محبت ہی بس اتاری تھی
اسے فریب و دغا ہم بنانے والے ہیں
اگر ہے چاہ تو جلدی سے لوٹ آ، ورنہ
ہم اپنے آپ کو پھر آزمانے والے ہیں
میں کیسے مانوں تجھے تو وہی پرانا ہے
کہ تیرے طور سبھی اب زمانے والے ہیں
مہکنا ہے کہ بکھرنا، یہ گل کی قسمت ہے
ہم ایسے لوگ تو موسم بنانے والے ہیں
تو کس گمان میں آیا ہے ، آنے والے سن
یہاں پہ آنے کا مطلب ہے جانے والے ہیں
یہ آنکھ کھا بھی گئی، دل نہ کھائے گا دھوکہ
یہ جانتا ہے کہ سب جی جلانے والے ہیں
اس انتظار کو یہ کہہ کے مطمئن رکھا
یہ رستے جلد مری سمت آنے والے ہیں
جو آج نام نہیں لیتے ہیں ترا ابرک
وہ کل قصیدے ترے ہی سنانے والے ہیں
اتباف ابرک

Comments
Post a Comment