Jan Lo Tum , Tou Phir Khasara Nahi Kia Tumhara Hai , Kia Tumhara Nahi(Atbaf Abrak)
جان لو تم، تو پھر خسارہ نہیں
کیا تمہارا ہے، کیا تمہارا نہیں
جو ہؤا سو ہؤا ، دوبارہ نہیں
اب محبت نہیں ،خدارا نہیں
جس طرح سے گذر رہی ہے مری
اس طرح سے مرا گذارا نہیں
بے رخی یہ ابھی سے ہے کیونکر
ابھی ہم نے تمہیں پکارا نہیں
تو جو سمجھا ہے ٹھیک سمجھا ہے
ویسے تیری طرف اشارہ نہیں
عمر بھر کا نچوڑ ہے میری
زندگی آنکھ ہے نظارہ نہیں
او مری خیر چاہنے والے
تو مرا ہاتھ بن، سہارا نہیں
زیست ، نصف النہار ہے ابرک
سرمئی شام کا نظارہ نہیں
میں اسی قید میں رہوں گا مگر
اب یہ پنجرہ مجھے گوارا نہیں
میرے سب خط تمہارے نام رہے
آخری خط مگر تمہارا نہیں
گر کے کیسے بھلا سنبھلتا میں
آپ کا نام جب سہارا نہیں
پار اترے تو ہم نے یہ دیکھا
یہ بھی طوفان ہے کنارہ نہیں
اتباف ابرک
.jpg)
Comments
Post a Comment