Saath Wazo Ke Haath Lagaya Rindon Ne Parh Bismillah Jaam Uthaya Rindon Ne
ساتھ وضو کے ہاتھ لگایا رندوں نے
پڑھ بسم اللہ جام اٹھایا رندوں نے
جام اٹھا کے ہاتھوں میں پھر رقص کیا
محفل میں اک رنگ جمایا رندوں نے
آیا تھا جوفتویٰ دینے مے خانے
اس کو اپنے ساتھ نچایا رندوں نے
مفتی نے پھر لکھا فتویٰ پھاڑ دیا
پڑھ کے جب قرآن سنایا رندوں نے
حق اللہ حق اللہ ھو کا ورد چلا
نورانی ماحول بنایا رندوں نے
زاہد نے تو مسجد سے دھتکار دیا
مےخانےمیں پاس بٹھایا رندوں نے
واعظ سے تو نفرت اور تحقیر ملی
کم مایہ کا مان اٹھایا رندوں نے
اب ٹھکرائے جانے کا دکھ بھول گیا
الفت سے جب جام تھمایا رندوں نے
دل مدت سے جلتا بلتا صحرا تھا
اس کو نخلستان بنایا رندوں نے
ہنستے ہنستے رقصاں آئے دار تلک
مٹ جانے کا خوف مٹایا رندوں نے
الفی میرا ہونا تک مشکوک رہا
ہونے کا احساس دلایا رندوں نے
خاکسار افتخار حسین الفی

Comments
Post a Comment