Tod Kar Ahd e Karam Na Aashna Ho Jayeye Banda Parwar ! Jayeye , Acha Khafa Ho Jayeye
توڑ کر عہدِ کرم نا آشنا ہوجائیے
بندہ پرور! جائیے، اچھا خفا ہوجائیے
میرے عُذرِ جُرم پر مُطلق نہ کیجیے التفات
بلکہ پہلے سے بھی بڑھ کر کَج ادا ہو جائیے
خاطرِ محروم کو کر دیجئیے محوِ الم
در پئے ایذائے جانِ مبتلا ہوجائیے
راہ میں ملئے کبھی مجھ سے تو از راہِ کرم
ہونٹ اپنا کاٹ کر فورا" جدا ہوجائیے
گر نگاہِ شوق کو محوِ تماشا دیکھئے
قہر کی نظروں سے مصروفِ سزا ہوجائیے
میری تحریرِ ندامت کا نہ دیجیے کچھ جواب
دیکھ لیجیے اور تغافل آشنا ہو جائیے
مجھ سے تنہائی میں گر ملئے تو دیجے گالیاں
اور بزمِ غیر میں جانِ حیا ہو جائیے
ہاں! یہی میری وفائے بے اثر کی ہے سزا
آپ کچھ اِس سے بھی بڑھ کر پُر جفا ہوجائیے
جی میں آتا ہے کہ اُس شوخِ تغافل کیش سے
اب نہ ملئے پھر کبھی اور بے وفا ہوجائیے
دل سے یادِ روزگارِ عاشقی دیجے نکال
آرزوئے شوق سے نا آشنا ہو جائیے
کاوشِ دردِ جگر کی لذّتوں کو بھول کر
مائلِ آرام و مشتاقِ شفا ہو. جائیے
ایک بھی ارماں نہ رہ جائے دلِ مایوس میں
یعنی آخر بے نیازِ مدّعا ہو. جائیے
بھول کر بھی اُس ستم پرور کی پھر آئے نہ یاد
اس قدر. بیگانہء عہدِ وفا ہو جائیے
ہائے ری بے اختیاری، یہ تو سب کچھ ہو، مگر
اُس. سراپا. ناز. سے کیوں کر خفا ہو جائیے
چاہتا ہے مجھ کو تُو بھولے، نہ بھولوں میں تجھے
تیرے اس طرزِ تغافل کے فدا ہو جائیے
کشمکش ہائے الم سے اب یہ حسرت جی میں ہے
چھُٹ کے اِن جھگڑوں سے مہمانِ قضا ہوجائیے
حسرت موہانی
.jpg)
Comments
Post a Comment