Be-Ja Halqa e Azwaj Mein Mashor Hon Main Tera Bera Tera Dhobi Tera Mazdoor Hon Main



نظم

Nazam
 زن مرید کا شکو
Zan Mureed Ka Shikwah

شاعر ۔ مجید فضاء
Poet:Majeed Fiza


ہے بجا حلقۂ ازدواج میں مشہور ہوں میں
تیرا بیرا ترا دھوبی تیرا مزدور ہوں میں
زن مریدی کا شرف پا کے بھی رنجور ہوں میں
قصۂ درد سناتا ہوں کہ مجبور ہوں میں
میری مخدومہ مرے غم کی حکایت سن لے
ناز بردار سے تھوڑی سی شکایت سن لے
رشتہ داروں نے ترے جان مری کھائی ہے
فوج کی فوج مرے گھر میں اتر آئی ہے
کوئی ماموں کوئی خالو ہے کوئی بھائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے
پالوں بچوں کو ترے یا ترے غم خواروں کو
ان ممولوں کو سنبھالوں کہ چڑی ماروں کو
تو ہی کہہ دے کہ ترا حسن نکھارا کس نے
اس بلیک آؤٹ سے مکھڑے کو سنوارا کس نے
رخ پہ پھیرا ترے سرخی کا پچارا کس نے
تیرے میک اپ کا کیا خرچ گوارہ کس نے
کون تیرے لیے درزی سے غرارہ لایا
واسطہ دے کے غریبی کا خدا را لایا
پھر بھی مجھ سے یہ گلہ ہے کہ کماتا کم ہوں
نوجوانی میں تجھے عیش کراتا کم ہوں
لے کے شاپنگ کے لیے تجھ کو میں جاتا کم ہوں
اور 'پلازہ' میں تجھے فلم دکھاتا کم ہوں
کاش نوٹوں سے حکومت مری جیبیں بھر دے
مشکلیں شوہر مظلوم کی آساں کر دے
زچہ بن بن کے بجٹ میرا گھٹایا تو نے
ہر نئے سال نیا گل ہے کھلایا تو نے
اپنا شو روم مرے گھر کو بنایا تو نے
جس میں ہر رنگ کا ماڈل ہے سجایا تو نے
اس میں ہولو بھی ہے بھولو بھی ہے جوشیلا بھی
اس میں زلفی بھی ہے ننھا بھی رنگیلا بھی
کس قدر تجھ پہ گراں صبح کی بیداری ہے
اٹھ کے چولھے کی طرف جانا تجھے بھاری ہے
مجھ سے کب پیار ہے ہاں نیند تجھے پیاری ہے
تو ہی کہہ دے یہی انعام وفاداری ہے
میں وہ شوہر ہوں کہ خود آگ جلائی جس نے
لا کے بستر پہ تجھے چائے پلائی جس نے
ہنس کے بولوں جو پڑوسن سے تو جل جاتی ہے
کھولتی چائے کی مانند ابل جاتی ہے
حد اخلاق سے باہر بھی نکل جاتی ہے
موسم پنڈی کی مانند بدل جاتی ہے
جگ تو پھر جگ ہے صراحی بھی نہ چھوڑی تو نے
جب لڑی مجھ سے تو ہانڈی بھی ہے توڑی تو نے
کسی اسٹیج پہ آؤں تو چمک جاتا ہوں
تیری سرکار میں پہنچوں تو دبک جاتا ہوں
تو جو ہولے سے بھی کھانسے تو ٹھٹھک جاتا ہوں
گھور کے دیکھے تو پیچھے کو سرک جاتا ہوں
پھر بھی مجھ سے یہ گلا ہے کہ وفادار نہیں
تو ہے بے کار ترے پاس کوئی کار نہیں

Comments

Popular posts from this blog

Dukh Ye Hai Mera Yousaf o Yaqoob Ke Khaliq Woh Log Bhi Bichdey Jo Bichadnay Ke Nahi Thay

Mere Tan Ke Zakham Na Gin Abhi Meri Aankh Mein Abhi Noor Hai

Mujh Se Meri Umar Ka Khasara Poochtay Hein Ya'ani Log Mujh Se Tumhara Poochtay Hein