Gar Tum Haseen Na Hoty Hum Meharban Na Hoty
گر تم حسیں نہ ہوتے ہم مہرباں نہ ہوتے
Gar Tum Haseen Na Hoty Hum Meharban Na Hoty
سرکار چپ نہ ہوتے جو قدر داں نہ ہوتے
آپس میں مل نہ جائیں تکرار کرتے کرتے
اقرار کر نہ بیٹھو انکار کرتے کرتے
یہ آس گر نہ ہوتی ہم بے زباں نہ ہوتے
ہے جرم پیار کرنا تو شوق سے سزا دو
ورنہ نظر چرا کے تھوڑا سا مسکر دو
یہ پیار گر نہ ہوتا دونوں جہاں نہ ہوتے
طوفان سامنے ہے اور ساتھ ہے کنارا
اب اور بڑھ گیا ہے کچھ حوصلہ ہمارا
تم راز کیوں چھپاتے جو راز داں نہ ہوتے
فیاض ہاشمی
Fayaz Hashmy

Comments
Post a Comment