Aaj Tou Be-Sabab Udas Hai Jee Ishq Hota Tou Koi Baat Bhi Thi
آج تو بے سبب اداس ہے جی
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی
Aaj Tou Be-Sabab Udas Hai Jee
Ishq Hota Tou Koi Baat Bhi Thi
جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں
جانے کیا چیز کھو گئی ہے میری
وہیں پھرتا ہوں میں بھی خاک بسر
اس بھرے شہر میں ہے ایک گلی
چھپتا پھرتا ہے عشق دُنیا سے
پھیلتی جا رہی ہے رُسوائی
ہم نشیں کیا کہوں کہ وہ کیاہے
چھوڑ یہ بات نیند اُڑنے لگی
تو جو اتنا اداس ہے ناصر
تجھے کیا ہوگیا بتا تو سہی
ناصر کاظمی
Nasir Kazmi

Comments
Post a Comment