Mere Haath Mein Qalam Hai , Mere Zehin Mein Ujala Mujhe Kia Daba Saky Ga Koi Zulmaton Ka Pala
میرے ہاتھ میں قلم ہے، میرے ذہن میں اُجالا
مجھے کیا دبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا
Mere Haath Mein Qalam Hai , Mere Zehin Mein Ujala
Mujhe Kia Daba Saky Ga Koi Zulmaton Ka Pala
مجھے فکرِ امنِ عالم، تجھے اپنی ذات کا غم
میں طلوع ہو رہا ہوں، تو غروب ہونے والا
میں نے سچ کی راہ اپنائی، یہی میرا فیصلہ
تو جھوٹ کے آنگن میں ہے، اس کا انجام ہے کالا
مجھے کوششوں کا جادو، مجھے محنتوں کا بھرم
تجھے خام خیالیوں نے ہی آخرکار ہے ڈالا
میں امید کا دیا لے کے زمانے میں ہوں کھڑا
تو نفرتوں کی آندھی میں خود ہی ہے بکھرنے والا
میں روشنی کا سفیر اور میں حرفِ حق کا علم
تو ظلم کی آئینی میں خود اپنی آگ میں جالا
حبیب جالب
Habib Jalib

Comments
Post a Comment