Woh Mere Dost Hein , Dildar Nahi Hone Ke Dasht Tou Dasht Hein Gulzar Nahi Hone Ke
وہ مرے دوست ہیں، دلدار نہیں ہونے کے
دشت تو دشت ہیں گلزار نہیں ہونے کے
Woh Mere Dost Hein , Dildar Nahi Hone Ke
Dasht Tou Dasht Hein Gulzar Nahi Hone Ke
اب نباہیں گے کہاں تک وہ تعلّق ہم سے
غیر تو غیر ہیں وہ یار نہیں ہونے کے
ڈوبتے شخص کو تنکے کا سہارا ہے بہت
وہ مرے واسطے پتوار نہیں ہونے کے
میں نے سمجھا تھا کسی طور منالوں گا مگر
وہ مری بات پہ تیّار نہیں ہونے کے
میں نے شاہد بہت اخلاص سے چاہا ہے انہیں
پھول تو پھول ہیں وہ خار نہیں ہونے کے
ہارون شاہد
Haroon Shahid

Comments
Post a Comment